آپ کا عہد گر ملا ہوتا
میں بھی ہم عصر کعب کا ہوتا
بیعتِ عشق روز کرتا ہوں میں
ہاتھ میں ہاتھ آپ کا ہوتا
مجھ کو جینے کے ڈھنگ آ جاتے
میں بھی اک پیکرِ وفا ہوتا
زخم جو آپ کو احد میں لگا
میرے ماتھے پہ وہ کھلا ہوتا
آپ جن راستوں ست گزرے تھے
ان پہ میرا بدن بچھا ہوتا
میں اتر جاتا کفر کے دل میں
آپ کا تیر بن گیا ہوتا
کاش میں بھی لحد کی مٹی میں
آپ کے ہاتھ سے ملا ہوتا
آپ کا ہاتھ مجھ کو دفنا کر
بن کر ابرِ دعا اٹھا ہوتا
ایک انسان دیکھتا میں نجیبؔ
اور قرآن پڑھ لیا ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.