پکاریں یا علی کس کو کسی سے دل نہیں ملتا
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف-عراق)
پکاریں یا علی کس کو کسی سے دل نہیں ملتا
کوئی مشکل کشا ہم کو دمِ مشکل نہیں ملتا
سہارا اک یہی ہے بحرِ غم سے پار ہونے کا
تمہارا چھٹ گیا دامن تو پھر ساحل نہیں ملتا
خضر نے بھی تمہی کو رہنما اپنا بنایا تھا
کہ راہِ حق میں تم سا رہبرِ کامل نہیں ملتا
علی کے ساتھ حق ہے اور حق کے ساتھ ہے حیدر
یہ وہ حق ہے کہ جس کی راہ میں باطل نہیں ملتا
تمہارے در سے جو محروم مقصد ہو کے پلٹا ہو
فقیر ایسا نہیں ملتا کوئی سائل نہیں ملتا
صلہ اے نجمؔ دنیا میں کہا تو صیف حیدر کا
کہ جنت کے سوا اس سعیِ کا حاصل نہیں ملتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.