طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی
طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی
ملتی ہے اس جہاں کو مدینے کی روشنی
کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے
پھیلا رہے تھے آپ قرینے کی روشنی
اے موجبِ اوارض و سما اب کیجیے عطا
یا صاحبِ لولاک مدینے کی روشنی
شق الصدر سے ہوگئے حیران جبرئیل
پھیلی تھی کل جہان میں سینے کی روشنی
رمضان ہو کہ ما ہ ربیع الا ولی ہو بس
چاروں طرف ہے ان کے مہینے کی روشنی
اک صاحبِ کمال کا وہ حسن با کمال
مہکا رہا تھا ان کے پسینے کی روشنی
یزداں بھی ان پہ بھیجتا ہے رات دن درود
شمس و قمر سے بڑھ کے نگینے کی روشنی
جس وصلِ بے مثال میں طاری تھی بے خودی
بخشش میں تھی نماز خزینے کی روشنی
سرکار آپ کی ہی گدا ہوں کرم ہو بس
درکار ہے مجھے بھی خزینے کی روشنی
شاہیںؔ نبی کے دم سے ہی مجھ کو ہوئی عطا
مرتے ہوئے وجود میں جینے کی روشنی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.