Font by Mehr Nastaliq Web

طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی

نجمہ شاہین

طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی

نجمہ شاہین

MORE BYنجمہ شاہین

    طائف میں کربلا کے سفینے کی روشنی

    ملتی ہے اس جہاں کو مدینے کی روشنی

    کھاتے تھے زخم سب کی ہدایت کے واسطے

    پھیلا رہے تھے آپ قرینے کی روشنی

    اے موجبِ اوارض و سما اب کیجیے عطا

    یا صاحبِ لولاک مدینے کی روشنی

    شق الصدر سے ہوگئے حیران جبرئیل

    پھیلی تھی کل جہان میں سینے کی روشنی

    رمضان ہو کہ ما ہ ربیع الا ولی ہو بس

    چاروں طرف ہے ان کے مہینے کی روشنی

    اک صاحبِ کمال کا وہ حسن با کمال

    مہکا رہا تھا ان کے پسینے کی روشنی

    یزداں بھی ان پہ بھیجتا ہے رات دن درود

    شمس و قمر سے بڑھ کے نگینے کی روشنی

    جس وصلِ بے مثال میں طاری تھی بے خودی

    بخشش میں تھی نماز خزینے کی روشنی

    سرکار آپ کی ہی گدا ہوں کرم ہو بس

    درکار ہے مجھے بھی خزینے کی روشنی

    شاہیںؔ نبی کے دم سے ہی مجھ کو ہوئی عطا

    مرتے ہوئے وجود میں جینے کی روشنی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے