ان کا جلوہ سیرِ گلشن ہے بہ عنوانِ بہار
ان کا جلوہ سیرِ گلشن ہے بہ عنوانِ بہار
ہر کلی شاداب ہے ہر پھول ہے جانِ بہار
آج بدلا ہے چمن کا رنگ آخر کس لیے
آ رہا ہے کون گلشن میں بہ عنوانِ بہار
یا علی تم سے ہے وابستہ بشر کی زندگی
تم ہی ہو جانِ تمنا تم ہی ہو جانِ بہار
آئینہ بلّغ نے آ کر اس کو واضح کر دیا
گلشنِ توحید کا ہر پھول ہے جانِ بہار
ذکرِ آلِ مصطفیٰ ہے ذکر ختم المرسلین
گلنشِ ایماں کی خاطر ہے یہی جانِ بہار
دستِ پیغمبر سے جب حیدر نے پائی ذوالفقار
بن گئی وہ بہرِ گلزارِ عمل جانِ بہار
لافتیٰ الا علی کہتا ہوا آیا ملک
فاتحِ خیبر چلا جب لے کے سامانِ بہار
دشتِ وحشت خیز مرقد سے ہمیں ہو خوف کیا
حبِ آلِ مصطفیٰ ہے ساز و سامانِ بہار
جس کی مرضی مرضیٔ خلاقِ عالم ہے نسیمؔ
ہے شہنشاہِ مشیت اور سلطانِ بہار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.