محمد حبیب خدا بن کے آئے
محمد حبیب خدا بن کے آئے
وہ ہر دل کے دکھ کی دوا بن کے آئے
لیے دیدہ و دل میں تنویرِ وحدت
وہ آئینہ اتقا بن کے آئے
کنیزوں غلاموں کی زنجیر کاٹی
وہ بیواؤں کا آسرا بن کے آئے
یتیموں کا اس درجہ تھا درد دل میں
جہاں میں وہ خود بے نوا بن کے آئے
سب اوصاف روشن ہیں خیرالبشر کے
وہ حسنِ صداقت نما بن کے آئے
جنہیں حق نے بخشی ہے چشمِ بصیرت
وہ دیکھیں جہاں میں وہ کیا بن کے آئے
کشش ہے یہ تقریب یوم النبی کی
جو تم شوخؔ صدق آشنا بن کے آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.