Font by Mehr Nastaliq Web

محمد حبیب خدا بن کے آئے

نوبت رائے شوخ

محمد حبیب خدا بن کے آئے

نوبت رائے شوخ

MORE BYنوبت رائے شوخ

    محمد حبیب خدا بن کے آئے

    وہ ہر دل کے دکھ کی دوا بن کے آئے

    لیے دیدہ و دل میں تنویرِ وحدت

    وہ آئینہ اتقا بن کے آئے

    کنیزوں غلاموں کی زنجیر کاٹی

    وہ بیواؤں کا آسرا بن کے آئے

    یتیموں کا اس درجہ تھا درد دل میں

    جہاں میں وہ خود بے نوا بن کے آئے

    سب اوصاف روشن ہیں خیرالبشر کے

    وہ حسنِ صداقت نما بن کے آئے

    جنہیں حق نے بخشی ہے چشمِ بصیرت

    وہ دیکھیں جہاں میں وہ کیا بن کے آئے

    کشش ہے یہ تقریب یوم النبی کی

    جو تم شوخؔ صدق آشنا بن کے آئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے