ہزار بار مرے دل نے کی سکوں کی تلاش
ہزار بار مرے دل نے کی سکوں کی تلاش
ہوئی مدینے میں پوری مرے جنوں کی تلاش
عتیق عمر علی عثماں کے دل جو بدلے تھے
قریش کو رہی برسوں اسی فسوں کی تلاش
بدن بلال کا پگھلا نہ تپتے پتھر پر
عقیدتو کرو اس جذبۂ دروں کی تلاش
نبی بدلتا رہا قلب و روح کی دنیا
زمانہ کرتا رہا کیسے اور کیوں کی تلاش
حسین آج بھی زندہ ہیں ان کا موقف بھی
یزیدیوں کو ہے اب تک نبی کے خوں کی تلاش
قلم کبھی نہ ہو محصور آپ کا نظمیؔ
ہمیشہ جاری رہے مدحتِ فزوں کی تلاش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.