Font by Mehr Nastaliq Web

ہزار بار مرے دل نے کی سکوں کی تلاش

نظمی مارہروی

ہزار بار مرے دل نے کی سکوں کی تلاش

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    ہزار بار مرے دل نے کی سکوں کی تلاش

    ہوئی مدینے میں پوری مرے جنوں کی تلاش

    عتیق عمر علی عثماں کے دل جو بدلے تھے

    قریش کو رہی برسوں اسی فسوں کی تلاش

    بدن بلال کا پگھلا نہ تپتے پتھر پر

    عقیدتو کرو اس جذبۂ دروں کی تلاش

    نبی بدلتا رہا قلب و روح کی دنیا

    زمانہ کرتا رہا کیسے اور کیوں کی تلاش

    حسین آج بھی زندہ ہیں ان کا موقف بھی

    یزیدیوں کو ہے اب تک نبی کے خوں کی تلاش

    قلم کبھی نہ ہو محصور آپ کا نظمیؔ

    ہمیشہ جاری رہے مدحتِ فزوں کی تلاش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے