چل پڑا ہے قافلہ پھر سے مدینے کی طرف
چل پڑا ہے قافلہ پھر سے مدینے کی طرف
دل کا قبلہ کر لیا ہے ان کے روضے کی طرف
حشر میں اذنِ شفاعت مصطفیٰ کو ہے ملا
تک رہی ہیں امتیں آقا کے چہرے کی طرف
ناز برداری خدا کرتا ہے یوں محبوب کی
سمتِ قبلہ پھیر دی اقصیٰ سے کعبے کی طرف
ہم کو کافی ہے سہارا احمدِ مختار کا
ہات پھیلائیں بھلا کیوں ایسے ویسے کی طرف
کب سے نظمیؔ آپ کے در پڑا ہے اے حضور
اک نظر رحمت کی ہو اس اندھے شیشے کی طرف
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.