Font by Mehr Nastaliq Web

چل پڑا ہے قافلہ پھر سے مدینے کی طرف

نظمی مارہروی

چل پڑا ہے قافلہ پھر سے مدینے کی طرف

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    چل پڑا ہے قافلہ پھر سے مدینے کی طرف

    دل کا قبلہ کر لیا ہے ان کے روضے کی طرف

    حشر میں اذنِ شفاعت مصطفیٰ کو ہے ملا

    تک رہی ہیں امتیں آقا کے چہرے کی طرف

    ناز برداری خدا کرتا ہے یوں محبوب کی

    سمتِ قبلہ پھیر دی اقصیٰ سے کعبے کی طرف

    ہم کو کافی ہے سہارا احمدِ مختار کا

    ہات پھیلائیں بھلا کیوں ایسے ویسے کی طرف

    کب سے نظمیؔ آپ کے در پڑا ہے اے حضور

    اک نظر رحمت کی ہو اس اندھے شیشے کی طرف

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے