Font by Mehr Nastaliq Web

بارہ ربیع الاول کے دن اتری جو لاہوتی شعاع

نظمی مارہروی

بارہ ربیع الاول کے دن اتری جو لاہوتی شعاع

نظمی مارہروی

MORE BYنظمی مارہروی

    بارہ ربیع الاول کے دن اتری جو لاہوتی شعاع

    آدم سے ایں دم تک سب کو فیض رساں وہ نوری شعاع

    اقرا کے عنوان سے کل جو غارِ حرا پر چمکی تھی

    آج اسلام کا سورج بن کر چھائی ہے وہ پہلی شعاع

    آئے تھے خطاب کے بیٹے سر لینے شمشیر بکف

    اپنا سب کچھ دے بیٹھے جیسے ہی پڑی رحمت کی شعاع

    عرش سے آگے منزل کرنا عام بشر کا کام نہیں

    نورِ ازل میں گم ہونے کو پہنچی تھی وہ نوری شعاع

    لات و منات و ہبل و عزیٰ پل میں سجدہ ریز ہوئے

    جاءالحق و زھق الباطل کی چمکی توحیدی شعاع

    رحمتِ عالم نے نظمیؔ دنیا کو جینا سکھلایا

    امن و اخوت کی کرنیں لے کر آئی قرآنی شعاع

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے