بارہ ربیع الاول کے دن اتری جو لاہوتی شعاع
بارہ ربیع الاول کے دن اتری جو لاہوتی شعاع
آدم سے ایں دم تک سب کو فیض رساں وہ نوری شعاع
اقرا کے عنوان سے کل جو غارِ حرا پر چمکی تھی
آج اسلام کا سورج بن کر چھائی ہے وہ پہلی شعاع
آئے تھے خطاب کے بیٹے سر لینے شمشیر بکف
اپنا سب کچھ دے بیٹھے جیسے ہی پڑی رحمت کی شعاع
عرش سے آگے منزل کرنا عام بشر کا کام نہیں
نورِ ازل میں گم ہونے کو پہنچی تھی وہ نوری شعاع
لات و منات و ہبل و عزیٰ پل میں سجدہ ریز ہوئے
جاءالحق و زھق الباطل کی چمکی توحیدی شعاع
رحمتِ عالم نے نظمیؔ دنیا کو جینا سکھلایا
امن و اخوت کی کرنیں لے کر آئی قرآنی شعاع
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.