Font by Mehr Nastaliq Web

مہمان ہے مرے گھر میں بت پردہ نشیں آج

نثار اکبرآبادی

مہمان ہے مرے گھر میں بت پردہ نشیں آج

نثار اکبرآبادی

MORE BYنثار اکبرآبادی

    مہمان ہے مرے گھر میں بت پردہ نشیں آج

    دل جس کا مکاں ہے وہی آیا ہے مکیں آج

    ہے شادی میلاد شہ عرش نشیں آج

    قرباں کرو مؤمنوں جان دل و دیں آج

    ہے فرش سے تا عرش عجب نور کا عالم

    جاروب کناں پر سے ہیں جبریل امیں آج

    آتی ہیں صدائیں درو دیوار سے پیہم

    پیدا ہوا لو خاتم یثرب کا نگیں آج

    کس مہر جہاں تاب کے ہے نور کا پر تو

    افلاک سے بڑھ کر ہے تجلائے زمیں آج

    آمد ہے شہ یثرب و بطحیٰ کی فلک پر

    مجرے کے لیے خم ہے سرِ عرش بریں آج

    یا شاہ نثار سگِ دنیا کی خبر لو

    بیتاب ہے فردا سے بہت جان حزیں آج

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے