نہ تھمتا وقت تو صدیاں کئی گزر جاتیں
نہ تھمتا وقت تو صدیاں کئی گزر جاتیں
ہزاروں سال تھے درکار اک سفر کے لیے
زیادہ فاصلہ قوسین میں نظر آیا
خدا قریب ہوا اتنا اک بشر کے لیے
وہ جس کے بعد کبھی تیرگی نہیں ہوتی
حضور بھیجے گئے ہیں اسی سحر کے لیے
درود پڑھنا نبی پر خدا کی سنت ہے
سواب یہ فرض ہے دنیا کے ہر بشر کے لیے
یہ چشم آپ کے دیدار ہی کی پیاسی ہے
قرار اور نہیں نورِؔ چشمِ تر کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.