Font by Mehr Nastaliq Web

نہ تھمتا وقت تو صدیاں کئی گزر جاتیں

نور سہارنپوری

نہ تھمتا وقت تو صدیاں کئی گزر جاتیں

نور سہارنپوری

MORE BYنور سہارنپوری

    نہ تھمتا وقت تو صدیاں کئی گزر جاتیں

    ہزاروں سال تھے درکار اک سفر کے لیے

    زیادہ فاصلہ قوسین میں نظر آیا

    خدا قریب ہوا اتنا اک بشر کے لیے

    وہ جس کے بعد کبھی تیرگی نہیں ہوتی

    حضور بھیجے گئے ہیں اسی سحر کے لیے

    درود پڑھنا نبی پر خدا کی سنت ہے

    سواب یہ فرض ہے دنیا کے ہر بشر کے لیے

    یہ چشم آپ کے دیدار ہی کی پیاسی ہے

    قرار اور نہیں نورِؔ چشمِ تر کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے