یا_رسول_خدا سن لو یہ التجا میں بھکاری ہوں جھولی کو بھر دو
یا_رسول_خدا سن لو یہ التجا میں بھکاری ہوں جھولی کو بھر دو
قیصر رتناگیروی
MORE BYقیصر رتناگیروی
دلچسپ معلومات
آواز : زاہد نازاں قوال۔
یا رسول خدا سن لو یہ التجا میں بھکاری ہوں جھولی کو بھر دو
اب نگاہ کرم مجھ پہ کر دو میرے داتا
زمانے بھر کا ستایا ہوں یا رسول اللہ
تمہارے در پہ میں آیا ہوں یا رسول اللہ
میں اپنے وقت کا بگڑا ہوا ستارہ ہوں
اسیر رنج و الم درد و غم کا مارا ہوں
نگاہ فضل و عنایت کا خواست گار ہوں میں
کرم نواز ہو تم اور امیدوار ہوں میں
میں سوالی بھی ہوں ہاتھ خالی بھی ہوں تھامے دامن ہوں
جھولی کو بھر دو اب نگاہ کرم مجھ پہ کر دو
غرض کہ بندوں نے جوڑے تھے رشتے ٹوٹ گیے
رفیق و مونس و ہمدم تھے جتنے چھوٹ گیے
تھے جاں نثار جو کل آج منہ کو موڑ گیے
مجھے تباہی کے دہانے پہ لا کے چھوڑ گیے
یہ بے بسی کا ہے عالم کہ خود پہ بس نہ رہا
سوا تمہارے کوئی میرا دادرس نہ رہا
بخت پھوٹا ہوا وقت روٹھا ہوا بھیک دو بھیک دو
بھیک دو اب نگاہ کرم مجھ پہ کر دو
وہ ظلم یا نبی دنیا نے مجھ پہ ڈھایا ہے
کہ سہتے سہتے کلیجہ بھی منہ کو آیا ہے
کرم کرو میرے دل کو سکون مل جائے
یہ ڈر ہے شدت غم سے نہ دم نکل جائے
غریب و بے کس و مجبور بے نوا قیصرؔ
خدا کے نام کا دیتا ہے واسطہ قیصرؔ
آپ مشکل کشا میں ہوں اک غم زدہ
کر دو امداد جھولی بھرو اب نگاہ کرم مجھ پہ کر دو
- کتاب : Zahid Nazan Qawwal, Part 1 (Pg. 3)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.