Font by Mehr Nastaliq Web

حلال میکشی ہے اس میں کچھ کلام نہیں

قیصر رتناگیروی

حلال میکشی ہے اس میں کچھ کلام نہیں

قیصر رتناگیروی

MORE BYقیصر رتناگیروی

    حلال میکشی ہے اس میں کچھ کلام نہیں

    شراب عشق محمد پیو حرام نہیں

    ہے ایک صف میں کھڑے میکشان الا اللہ

    نگاہ ساقی میں تخصیص خاص و عام نہیں

    وہ کون سا ہے صحیفہ محمدؐ عربی

    کہ جس میں ذکر تمہارا نہیں ہے نام نہیں

    تھا اتنا پاس ادب شان سرور ذیشاں

    پیام بھیجا خدا نے بجز سلام نہیں

    حضور عرش پہ پہنچے تو طور پر موسیٰ

    ہے بات راز کی اذن نظارہ عام نہیں

    پڑا ہوں ارض مدینہ میں خوش ہوں اے رضواں

    نہیں مجھے تیری جنت سے کوئی کام نہیں

    زمیں سے عرش پہ پہنچا براق پل بھر میں

    سواری اس سے کوئی بڑھ کے تیز گام نہیں

    زبان خلق سے گونجی ہے یہ صدا قیصرؔ

    کلام میں تیرے گنجائش کلام نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے