Font by Mehr Nastaliq Web

ہے عشق_محمد میں بیتاب_جگر برسوں

قیصر رتناگیروی

ہے عشق_محمد میں بیتاب_جگر برسوں

قیصر رتناگیروی

MORE BYقیصر رتناگیروی

    ہے عشق محمد میں بیتاب جگر برسوں

    دیدار کی حسرت میں روتی ہے نظر برسوں

    تسکین کے اے آقا کچھ دن تو میسر ہوں

    کاٹے ہیں مصیبت کے یہ شام و سحر برسوں

    چوموں گا نگاہوں سے اس راہگزر کو میں

    رہتی ہے تصور میں جو راہگزر برسوں

    محروم ہوں منزل سے منزل کے تجسس میں

    کہنے کو تو میں بھی ہوں سر گرم سفر برسوں

    میں ہاتھ اٹھاتا ہوں آمین کہو تم بھی

    یاد رہے دعا میری محروم اثر برسوں

    اس گردش دوراں نے کچھ موڑ دیے ایسے

    منزل تھی کدھر میری گزرے ہیں کدھر برسوں

    شمع رخ احمد کا پروانہ ہوں پروانہ

    پروانہ کی خواہش میں جلتے رہے پر برسوں

    دوری میں مدینے کی فرقت میں محمدؐ کی

    یہ شان کرم دیکھو ہوں سینہ سپر برسوں

    اے رحمت عالم ہو رحمت کی نظر اب تو

    محروم‌ نظارا ہیں یہ دیدۂ تر برسوں

    ہے وجہ پریشانی ویرانئ دل آقا

    آباد کسی دن ہوا اجڑا ہوا گھر برسوں

    شیدائے محمد ہوں جنت میرا مسکن ہے

    تو تاک میں تھی کس کی اے نار سقر برسوں

    امید کے گلشن میں پھر تازہ بہار آئے

    ہے نخل تمنا پھر بے برگ و ثمر برسوں

    اک بار جو جھک جائے سنگ در احمد پر

    اٹھے گا نہ اے قیصرؔ سر ہے میرا سر برسوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے