ہے عشق_محمد میں بیتاب_جگر برسوں
ہے عشق محمد میں بیتاب جگر برسوں
دیدار کی حسرت میں روتی ہے نظر برسوں
تسکین کے اے آقا کچھ دن تو میسر ہوں
کاٹے ہیں مصیبت کے یہ شام و سحر برسوں
چوموں گا نگاہوں سے اس راہگزر کو میں
رہتی ہے تصور میں جو راہگزر برسوں
محروم ہوں منزل سے منزل کے تجسس میں
کہنے کو تو میں بھی ہوں سر گرم سفر برسوں
میں ہاتھ اٹھاتا ہوں آمین کہو تم بھی
یاد رہے دعا میری محروم اثر برسوں
اس گردش دوراں نے کچھ موڑ دیے ایسے
منزل تھی کدھر میری گزرے ہیں کدھر برسوں
شمع رخ احمد کا پروانہ ہوں پروانہ
پروانہ کی خواہش میں جلتے رہے پر برسوں
دوری میں مدینے کی فرقت میں محمدؐ کی
یہ شان کرم دیکھو ہوں سینہ سپر برسوں
اے رحمت عالم ہو رحمت کی نظر اب تو
محروم نظارا ہیں یہ دیدۂ تر برسوں
ہے وجہ پریشانی ویرانئ دل آقا
آباد کسی دن ہوا اجڑا ہوا گھر برسوں
شیدائے محمد ہوں جنت میرا مسکن ہے
تو تاک میں تھی کس کی اے نار سقر برسوں
امید کے گلشن میں پھر تازہ بہار آئے
ہے نخل تمنا پھر بے برگ و ثمر برسوں
اک بار جو جھک جائے سنگ در احمد پر
اٹھے گا نہ اے قیصرؔ سر ہے میرا سر برسوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.