غوث_الاعظم در_مقصود دلا دیتے ہیں
دلچسپ معلومات
منقبت در شان غوث پاک شیخ عبدالقادر جیلانی (بغداد-عراق)
غوث الاعظم در مقصود دلا دیتے ہیں
بخت خوابیدہ کو ایک پل میں جگا دیتے ہیں
داغ محرومئی تقدیر مٹا دیتے ہیں
بے نواؤں کو وہ سلطان بنا دیتے ہیں
ملنے والا ہو تو اللہ سے ملا دیتے ہیں
غوث اعظم در مقصود دلا دیتے ہیں
غوث چاہیں تو بدل ڈالیں نظام عالم
آپ کا حکم بحمداللہ ہے حکم احکم
کیوں نہ ہو ہیں وہ جگر گوشے رسولؐ اکرم
ارض بغداد کو حاصل ہے یہ رتبہ ہمدم
بہر تعظیم ملک سر کو جھکا دیتے ہیں
ہاتھ آ جاتی ہے کونین کی دولت ساقی
یعنی قدموں سے لگی رہتی ہے نصرت ساقی
وجہ تشہیر بنا کرتی ہے شہرت ساقی
اس کو پینے کی نہیں رہتی ضرورت ساقی
قادری جام جسے غوث پلا دیتے ہیں
سچ تو یہ ہے کہ نہیں غوث کا کوئی ثانی
عبد قادر ہے لقب ان کا شہ جیلانیؔ
آپ کے کشف و کرامات بھی ہیں لا ثانی
دیکھ کر ورطۂ حیرت میں پڑی حیرانی
چور کو دم میں وہ ابدال بنا دیتے ہیں
جو ازل ہی سے ہیں شیدائی شاہ جیلاں
جان و دل غوث پہ کرتے ہیں وہ ہر دم قرباں
کوئی مانے یا نہ مانے یہ ہے میرا ایماں
آج بھی ان کے غلاموں میں یہ باقی ہے شاں
کہہ کے یا غوث زمانے کو ہلا دیتے ہیں
غم محشر سے نہ دل ہوگا کبیدہ قیصرؔ
گرمیٔ حشر سے ہوگا نہ تپیدہ قیصرؔ
قادری ہوں میرا سچا ہے عقیدہ قیصرؔ
پڑھتا جاؤں میں رحمت کا قصیدہ قیصرؔ
اپنی الفت کا مجھے غوث صلہ دیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.