Font by Mehr Nastaliq Web

ہو گئی آپ کی یوں مجھ پہ شفقت خواجہ

قیصر رتناگیروی

ہو گئی آپ کی یوں مجھ پہ شفقت خواجہ

قیصر رتناگیروی

MORE BYقیصر رتناگیروی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان غریب نواز خواجہ معین الدین چشتی (اجمیر-راجستھان)

    ہو گئی آپ کی یوں مجھ پہ شفقت خواجہ

    تک رہی ہے مجھے ہر آنکھ بہ حیرت خواجہ

    اب چھپائے نہیں چھپتی یہ حقیقت خواجہ

    حال دل کہنے لگی اشکوں کی کثرت خواجہ

    پرورش پاتی رہی مدتوں پروان چڑھی

    گوشۂ دل میرے آپ کی الفت خواجہ

    رہ گئی ہو کے بغل گیر خدا شاہد ہے

    آپ کی چشم کرم میری عقیدت خواجہ

    یوں نکلنے کو تو نکلے کئی ارماں لیکن

    رہ گئی آپ کے دیدار کی حسرت خواجہ

    آپ کے جلووں سے ہو جائیں منور آنکھیں

    ایک حسرت تھی نکلتی کسی صورت خواجہ

    سائل خواجۂ اجمیر مجھے کہتے ہیں

    آپ کے در سے ملی ہے مجھے عزت خواجہ

    زخم دل پر وہیں امید نے رکھا مرہم

    بڑھ گئی حد سے جہاں درد کی شدت خواجہ

    آپ کے روضۂ اقدس پہ معین الغرباء

    پہنچا ہوں سننے ہر اک گام پہ شہرت خواجہ

    در منعم پہ نظر آئے وہ ممکن ہی نہیں

    آپ دیتے ہیں جسے حسب ضرورت خواجہ

    آپ کے در کی غلامی کے عوض میں شاہی

    میں نہیں لوں گا یقیناً کسی قیمت خواجہ

    یہ عقیدہ نہیں ایمان ہے ایمان میرا

    خوش مقدر ہیں جو ہیں حاضر خدمت خواجہ

    میری دیوانگی ہے حاصل صد ہوش و خرد

    کیا بتاؤں یہ ملی کس کی بدولت خواجہ

    مدتوں بعد ملا حکم حضوری مجھ کو

    کیا کہوں گر نہ کہوں خوبیٔ قسمت خواجہ

    شامل فکر سخن آپ کا ہے فیض اتم

    فکر قیصرؔ میں کہاں تھی کوئی ندرت خواجہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے