کیا ستم تھے کربلا میں جو نہ ان پر ہو گئے
دلچسپ معلومات
شہیدی۔
کیا ستم تھے کربلا میں جو نہ ان پر ہو گئے
گھر دلوں میں کرنے والے گھر سے بے گھر ہو گئے
دشمنوں کے سر کچل ڈالیں گے زینب کے پسر
اب تو یہ معصوم بھی آپے سے باہر ہو گیے
عذر بیعت پر یزیدیت تڑپ کر رہ گئی
تیر دل میں چبھ گئے پیوست خنجر ہو گئے
عیش کی جاگیر کس کے ہاتھ آئی مستقل
وہ بہت اچھے رہے جو غم کے خوگر ہو گئے
یوں بہن نے بھائی کے غم کی سنائی داستاں
داغ دل کے غیرت ماہ منور ہو گئے
یوں تو ہر ابن علی کے در پئے آزار تھے
یا ابھی خدمت میں آئے اور نچھاور ہو گئے
محو حیرت تھی زمیں اور دم بخود تھا آسماں
لشکر جرار پر حاوی بہتر ہو گئے
شاہ کے کام آئے میداں میں بہتر جاں نثار
خلد کے وارث بہتر کے بہتر ہو گئے
جو گزرتی ہے غم شبیر میں کہتے ہیں ہم
لوگ کہتے ہیں کہ قیصرؔ بھی سخن ور ہو گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.