Font by Mehr Nastaliq Web

کیا ستم تھے کربلا میں جو نہ ان پر ہو گئے

قیصر رتناگیروی

کیا ستم تھے کربلا میں جو نہ ان پر ہو گئے

قیصر رتناگیروی

MORE BYقیصر رتناگیروی

    دلچسپ معلومات

    شہیدی۔

    کیا ستم تھے کربلا میں جو نہ ان پر ہو گئے

    گھر دلوں میں کرنے والے گھر سے بے گھر ہو گئے

    دشمنوں کے سر کچل ڈالیں گے زینب کے پسر

    اب تو یہ معصوم بھی آپے سے باہر ہو گیے

    عذر بیعت پر یزیدیت تڑپ کر رہ گئی

    تیر دل میں چبھ گئے پیوست خنجر ہو گئے

    عیش کی جاگیر کس کے ہاتھ آئی مستقل

    وہ بہت اچھے رہے جو غم کے خوگر ہو گئے

    یوں بہن نے بھائی کے غم کی سنائی داستاں

    داغ دل کے غیرت ماہ منور ہو گئے

    یوں تو ہر ابن علی کے در پئے آزار تھے

    یا ابھی خدمت میں آئے اور نچھاور ہو گئے

    محو حیرت تھی زمیں اور دم بخود تھا آسماں

    لشکر جرار پر حاوی بہتر ہو گئے

    شاہ کے کام آئے میداں میں بہتر جاں نثار

    خلد کے وارث بہتر کے بہتر ہو گئے

    جو گزرتی ہے غم شبیر میں کہتے ہیں ہم

    لوگ کہتے ہیں کہ قیصرؔ بھی سخن ور ہو گئے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے