کون جلوہ نما ہوگیا
دل کا روشن دیا ہوگیا
بے وفا با وفا ہوگیا
سوچتا ہوں یہ کیا ہوگیا
ان کا جب سامنا ہوگیا
زخم دل کا ہرا ہوگیا
ان کے کوچے میں ہم کیا گئے
ایک محشر بپا ہوگیا
جان و دل جس پہ صدقے کیے
وہ ستمگر خفا ہوگیا
میری میت پہ وہ آ گیے
ان کا وعدہ وفا ہوگیا
سجدۂ بندگی ہے وہی
جو جنوں میں ادا ہوگیا
چھوڑ کر بادہ نوشی قمرؔ
آج سے پارسا ہوگیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.