پرچمِ حق لیے وہ ماہِ تمام آتے ہیں
پرچمِ حق لیے وہ ماہِ تمام آتے ہیں
عرش سے رحمتِ باری کے سلام آتے ہیں
سن کے آوازِ اذاں گھر سے امام آتے ہیں
با ادب ساتھ میں اصحابِ کرام آتے ہیں
دن کے ڈھلتے ہی اجالوں کے سلام آتے ہیں
یہ وہ سورج ہیں جو اکثر سرِ شام آتے ہیں
ہم جب آتے ہیں عقیدت کی ردا اوڑھے ہوئے
شور اٹھتا ہے محمد کے غلام آتے ہیں
آپ کے شہر کا دنیا میں نہیں کوئی جواب
آپ کے شہر سے رحمت کے پیام آتے ہیں
پہلے مکے سے ملا کرتی تھی پینے کو ہمیں
اب یہ عالم ہے مدینے سے بھی جام آتے ہیں
اؤلیا خلق سے غافل نہیں رہتے پل بھر
وقت پڑتا ہے تو بندوں کے یہ کام آتے ہیں
ناز کرتا ہوں کہ اللہ نے بخشا ہے قمرؔ
قلب وہ جس میں رسولوں کے امام آتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.