نہیں مٹ سکتا کوشش لاکھ کر لے تو مٹانے کی
نہیں مٹ سکتا کوشش لاکھ کر لے تو مٹانے کی
غلامی مجھ کو حاصل ہے محمد کے گھرانے کی
میسر ہے غلاموں کو فضا آنسو بہانے کی
اجازت ہے وہاں سب کو چراغِ دل جلانے کی
یہ میرا کام ہے کوشش کروں طیبہ کو جانے کی
وہ ان کی بات ہے چاہیں مجھے در پر بلانے کی
جسے چاہیں وہ مالا مال کر دیں اک اشارے میں
انہیں کے ہاتھ میں کنجی ہے قدرت کے خزانے کی
بجا ہے گر مقدر کا دھنی اس کو کہا جائے
زیارت جس کو ہو جائے نبی کے آستانے کی
جسے حاصل ہے نسبت سیدِ عالم کی چوکھٹ سے
ہے اس کی ٹھوکروں میں دولت و ثروت زمانے کی
وہ لذت جاگنے میں ہے قمرؔ آقا کے روضے پر
صبا کوشش نہیں کرتی کسی کو بھی سلانے کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.