ہر منزل مقصود کو ہم بھول گئے ہیں
ہر منزل مقصود کو ہم بھول گئے ہیں
جس دن سے ترا نقش قدم بھول گئے ہیں
یا آکے دلا جاؤ یقیں اپنی وفا کا
یا صاف یہ کہہ دو تجھے ہم بھول گئے ہیں
کل تک جو بہاتے تھے مرے ساتھ خود آنسو
اب وہ بھی مرا دامن نم بھول گئے ہیں
اس جرم میں زنجیر پہننے کو ملی ہے
اک زلف گرہ گیر کو ہم بھول گئے ہیں
وہ لاکھ ستم ڈھائیں مگر یاد تو رکھیں
غم یہ ہے کہ اب دے کے وہ غم بھول گئے ہیں
ہم کرتے ہیں نقش قدم یار پہ سجدے
اب کشمکش دیرو حرم بھول گئے ہیں
اب اشک بہانا بھی ہمیں یاد نہیں ہے
تارے بھی چمکنا شب غم بھول گئے ہیں
اس بزم میں جس دن سے چھڑا ذکر سحر کا
ہم تیرگی شام الم بھول گئے ہیں
ایمان کی سرحد کے قریں کفر ملے گا
بتخانے کو کیا اہل حرم بھول گئے ہیں
اب ڈھونڈھتے پھرتے ہیں مسرت کے خزانے
کچھ اہل ہوس لذت غم بھول گئے ہیں
یہ فیصلہ اے رازؔ ہم ان پر ہی رکھیں گے
وہ بھول گئے یا انہیں ہم بھول گئے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.