Font by Mehr Nastaliq Web

ہر منزل مقصود کو ہم بھول گئے ہیں

راز الہ آبادی

ہر منزل مقصود کو ہم بھول گئے ہیں

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    ہر منزل مقصود کو ہم بھول گئے ہیں

    جس دن سے ترا نقش قدم بھول گئے ہیں

    یا آکے دلا جاؤ یقیں اپنی وفا کا

    یا صاف یہ کہہ دو تجھے ہم بھول گئے ہیں

    کل تک جو بہاتے تھے مرے ساتھ خود آنسو

    اب وہ بھی مرا دامن نم بھول گئے ہیں

    اس جرم میں زنجیر پہننے کو ملی ہے

    اک زلف گرہ گیر کو ہم بھول گئے ہیں

    وہ لاکھ ستم ڈھائیں مگر یاد تو رکھیں

    غم یہ ہے کہ اب دے کے وہ غم بھول گئے ہیں

    ہم کرتے ہیں نقش قدم یار پہ سجدے

    اب کشمکش دیرو حرم بھول گئے ہیں

    اب اشک بہانا بھی ہمیں یاد نہیں ہے

    تارے بھی چمکنا شب غم بھول گئے ہیں

    اس بزم میں جس دن سے چھڑا ذکر سحر کا

    ہم تیرگی شام الم بھول گئے ہیں

    ایمان کی سرحد کے قریں کفر ملے گا

    بتخانے کو کیا اہل حرم بھول گئے ہیں

    اب ڈھونڈھتے پھرتے ہیں مسرت کے خزانے

    کچھ اہل ہوس لذت غم بھول گئے ہیں

    یہ فیصلہ اے رازؔ ہم ان پر ہی رکھیں گے

    وہ بھول گئے یا انہیں ہم بھول گئے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے