ہر طرف ابر رحمت کی برسات ہے
ہر طرف ابر رحمت کی برسات ہے
کتنی پر کیف معراج کی رات ہے
کوئی دیکھے یہ کتنی بڑی بات ہے
آج حق سے نبی کی ملاقات ہے
صف بہ صف انبیا سر جھکائے چلے
وہ ہیں دولھا فرشتوں کی بارات ہے
ہم سیہ کاروں کو بخشوانے چلے
لاج امت کی سرکار کے ہات ہے
کوئی چلمن نہیں کوئی پردہ نہیں
رو برو ان کے اللہ کی ذات ہے
اپنے مہمان کو میزباں کر دیا
اس کی مہماں نوازی کی کیا بات ہے
سینکڑوں رات قربان اس رات پر
آج کی رات کتنی حسیں رات ہے
آج تاریکیوں کا نشاں بھی نہیں
فرش سے عرش تک چاندنی رات ہے
رازؔ اب تک کوئی مجھ کو سمجھا نہیں
پردۂ راز میں میری ہر بات ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.