Font by Mehr Nastaliq Web

ہر طرف ابر رحمت کی برسات ہے

راز الہ آبادی

ہر طرف ابر رحمت کی برسات ہے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    ہر طرف ابر رحمت کی برسات ہے

    کتنی پر کیف معراج کی رات ہے

    کوئی دیکھے یہ کتنی بڑی بات ہے

    آج حق سے نبی کی ملاقات ہے

    صف بہ صف انبیا سر جھکائے چلے

    وہ ہیں دولھا فرشتوں کی بارات ہے

    ہم سیہ کاروں کو بخشوانے چلے

    لاج امت کی سرکار کے ہات ہے

    کوئی چلمن نہیں کوئی پردہ نہیں

    رو برو ان کے اللہ کی ذات ہے

    اپنے مہمان کو میزباں کر دیا

    اس کی مہماں نوازی کی کیا بات ہے

    سینکڑوں رات قربان اس رات پر

    آج کی رات کتنی حسیں رات ہے

    آج تاریکیوں کا نشاں بھی نہیں

    فرش سے عرش تک چاندنی رات ہے

    رازؔ اب تک کوئی مجھ کو سمجھا نہیں

    پردۂ راز میں میری ہر بات ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے