Font by Mehr Nastaliq Web

ان بادہ کشوں کی صحبت میں اس بات پہ حیرت ہوتی ہے

راز الہ آبادی

ان بادہ کشوں کی صحبت میں اس بات پہ حیرت ہوتی ہے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    ان بادہ کشوں کی صحبت میں اس بات پہ حیرت ہوتی ہے

    توبہ بھی نہیں توڑ ی جاتی پینے کی بھی نیت ہوتی ہے

    بے لطف ہر اک شے دنیا کی بے کیف مسرت ہوتی ہے

    ملتا ہے مگر جو غم ان سے اس غم میں بھی لذت ہوتی ہے

    میں تیری محبت کو آخر دنیا سے چھپاؤں گا کب تک

    وہ منہ سے نکل ہی جاتی ہے جو بات حقیقت ہوتی ہے

    یہ عشق و وفا کے دیوانے ظاہر میں ہیں خستہ حال مگر

    سنتے ہیں کہ ان کے قدموں میں کونین کی جنت ہوتی ہے

    طوفاں پہ نظر رکھنے والے ساحل کی طرف بھی ایک نظر

    غرقاب کنارے پر اکثر کشتیٔ محبت ہوتی ہے

    نازک سی طبیعت پر ان کی یہ رازؔ عیاں مت ہونے دے

    ممکن ہے انہیں معلوم نہ ہو کیا چیز محبت ہوتی ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے