ان بادہ کشوں کی صحبت میں اس بات پہ حیرت ہوتی ہے
ان بادہ کشوں کی صحبت میں اس بات پہ حیرت ہوتی ہے
توبہ بھی نہیں توڑ ی جاتی پینے کی بھی نیت ہوتی ہے
بے لطف ہر اک شے دنیا کی بے کیف مسرت ہوتی ہے
ملتا ہے مگر جو غم ان سے اس غم میں بھی لذت ہوتی ہے
میں تیری محبت کو آخر دنیا سے چھپاؤں گا کب تک
وہ منہ سے نکل ہی جاتی ہے جو بات حقیقت ہوتی ہے
یہ عشق و وفا کے دیوانے ظاہر میں ہیں خستہ حال مگر
سنتے ہیں کہ ان کے قدموں میں کونین کی جنت ہوتی ہے
طوفاں پہ نظر رکھنے والے ساحل کی طرف بھی ایک نظر
غرقاب کنارے پر اکثر کشتیٔ محبت ہوتی ہے
نازک سی طبیعت پر ان کی یہ رازؔ عیاں مت ہونے دے
ممکن ہے انہیں معلوم نہ ہو کیا چیز محبت ہوتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.