کیوں چاند میں کھوئے ہو الجھے ہو ستاروں میں
کیوں چاند میں کھوئے ہو الجھے ہو ستاروں میں
آقا کو میرے ڈھونڈو قرآن کے پاروں میں
جبرئیل امیں بولے سدرہ کے مکیں بولے
تجھ سا نہ کوئی دیکھا لاکھوں میں ہزاروں میں
اے کاش کبوتر ہی ہم بن کے رہے ہوتے
اس گنبدِ خضریٰ کے پُر نور میناروں میں
ان کے ہی پسینے کی خوشبو ہے بہاروں میں
ان کی ہی تجلی ہے ان چاند ستاروں میں
سرکارِ دو عالم کی الفت میں جو مرتے ہیں
اللہ کے وہ بندے زندہ ہیں مزاروں میں
رضواں تیری جنت کو فرصت جو ملے دیکھوں
کھوئی ہے ابھی نظریں طیبہ کے نظاروں میں
ہم تجھ کو بتائیں گے جنت کسے کہتے ہیں
آ بیٹھ کبھی نجدی ہم درد کناروں میں
اللہ نے امت کی بخشش کا کیا وعدہ
محبوب کو جب دیکھا روتے ہوئے غاروں میں
طیبہ کے فقیروں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے
تاریخ بتاتی ہے یہ رازؔ اشاروں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.