Font by Mehr Nastaliq Web

کیوں چاند میں کھوئے ہو الجھے ہو ستاروں میں

راز الہ آبادی

کیوں چاند میں کھوئے ہو الجھے ہو ستاروں میں

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    کیوں چاند میں کھوئے ہو الجھے ہو ستاروں میں

    آقا کو میرے ڈھونڈو قرآن کے پاروں میں

    جبرئیل امیں بولے سدرہ کے مکیں بولے

    تجھ سا نہ کوئی دیکھا لاکھوں میں ہزاروں میں

    اے کاش کبوتر ہی ہم بن کے رہے ہوتے

    اس گنبدِ خضریٰ کے پُر نور میناروں میں

    ان کے ہی پسینے کی خوشبو ہے بہاروں میں

    ان کی ہی تجلی ہے ان چاند ستاروں میں

    سرکارِ دو عالم کی الفت میں جو مرتے ہیں

    اللہ کے وہ بندے زندہ ہیں مزاروں میں

    رضواں تیری جنت کو فرصت جو ملے دیکھوں

    کھوئی ہے ابھی نظریں طیبہ کے نظاروں میں

    ہم تجھ کو بتائیں گے جنت کسے کہتے ہیں

    آ بیٹھ کبھی نجدی ہم درد کناروں میں

    اللہ نے امت کی بخشش کا کیا وعدہ

    محبوب کو جب دیکھا روتے ہوئے غاروں میں

    طیبہ کے فقیروں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے

    تاریخ بتاتی ہے یہ رازؔ اشاروں میں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نا معلوم

    نا معلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے