حشر کے دن کوئی آسرا چاہیے
حشر کے دن کوئی آسرا چاہیے
سایۂ دامنِ مصطفیٰ چاہیے
میرے ٹوٹے ہوئے دل کو کیا چاہیے
جلوہ گاہِ حبیب خدا چاہیے
اک طرف خلد ہے اک طرف ان کا در
سوچتا ہوں کدھر دیکھنا چاہیے
خاک طیبہ اڑا کر نہیں لائی تو
تجھ کو ایسا نہ بادِ صبا چاہیے
بخش کر مجھ کو کونین کی دولتیں
پوچھتے ہیں تجھے اور کیا چاہیے
یوں نہ سمجھو گے تفسیر قرآن کو
پہلے عشق حبیب خدا چاہیے
میں نے یہ کہہ کے خلد بریں چھوڑ دی
صرف مجھ کو درِ مصطفیٰ چاہیے
ڈوب کر جو ابھرنا سکھا دے مجھے
میری کشتی کو وہ نا خدا چاہیے
جو دیارِ نبی میں مجھے چھوڑ دے
کوئی ایسا مجھے قافلہ چاہیے
رازؔ تم کو خدا بخش دے گا مگر
ہاتھ میں دامنِ مصطفیٰ چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.