Font by Mehr Nastaliq Web

حشر کے دن کوئی آسرا چاہیے

راز الہ آبادی

حشر کے دن کوئی آسرا چاہیے

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    حشر کے دن کوئی آسرا چاہیے

    سایۂ دامنِ مصطفیٰ چاہیے

    میرے ٹوٹے ہوئے دل کو کیا چاہیے

    جلوہ گاہِ حبیب خدا چاہیے

    اک طرف خلد ہے اک طرف ان کا در

    سوچتا ہوں کدھر دیکھنا چاہیے

    خاک طیبہ اڑا کر نہیں لائی تو

    تجھ کو ایسا نہ بادِ صبا چاہیے

    بخش کر مجھ کو کونین کی دولتیں

    پوچھتے ہیں تجھے اور کیا چاہیے

    یوں نہ سمجھو گے تفسیر قرآن کو

    پہلے عشق حبیب خدا چاہیے

    میں نے یہ کہہ کے خلد بریں چھوڑ دی

    صرف مجھ کو درِ مصطفیٰ چاہیے

    ڈوب کر جو ابھرنا سکھا دے مجھے

    میری کشتی کو وہ نا خدا چاہیے

    جو دیارِ نبی میں مجھے چھوڑ دے

    کوئی ایسا مجھے قافلہ چاہیے

    رازؔ تم کو خدا بخش دے گا مگر

    ہاتھ میں دامنِ مصطفیٰ چاہیے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے