Font by Mehr Nastaliq Web

نہ تلاش میکدے کی نہ تلاشِ جام و مینا

راز الہ آبادی

نہ تلاش میکدے کی نہ تلاشِ جام و مینا

راز الہ آبادی

MORE BYراز الہ آبادی

    نہ تلاش میکدے کی نہ تلاشِ جام و مینا

    مرے واسطے ہے کافی مرا ساقیٔ مدینہ

    کبھی زہر بھی ملے تو ہے قبول مجھ کو پینا

    غمِ مصطفیٰ میں مرکے مجھے آگیا ہے جینا

    بڑا خوش نصیب ہوں میں مرے دل میں ہے مدینہ

    مرے ہاتھ آگیا یہ بڑا قیمتی نگینہ

    ابھی خلد کا خدا را کوئی تذکرہ نہ چھیڑے

    ابھی یاد آرہا ہے مجھے گلشنِ مدینہ

    مری زندگی کا حاصل مرے واسطے یہی ہے

    ترا نام لے کے مرنا ترا نام لے کے جینا

    انہیں دونوں منزلوں کی میں حدوں میں کھو گیا ہوں

    کبھی روبرو ہے کعبہ کبھی سامنے مدینہ

    یہ بھنور یہ تیز دھارے مرا کچھ نہ کر سکیں گے

    انہیں ناخدا بنا لوں ابھی پار ہے سفینہ

    شہ دوسرا سے کہنا مری بیکسی کا عالم

    کبھی اے صبا گزر ہو جو ترا سوئے مدینہ

    وہ تجھے اگر بلالیں تو کرم ہے رازؔ ان کا

    کہاں تیرے بھاگ ایسے کہاں تو کہاں مدینہ

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے