نہ تلاش میکدے کی نہ تلاشِ جام و مینا
نہ تلاش میکدے کی نہ تلاشِ جام و مینا
مرے واسطے ہے کافی مرا ساقیٔ مدینہ
کبھی زہر بھی ملے تو ہے قبول مجھ کو پینا
غمِ مصطفیٰ میں مرکے مجھے آگیا ہے جینا
بڑا خوش نصیب ہوں میں مرے دل میں ہے مدینہ
مرے ہاتھ آگیا یہ بڑا قیمتی نگینہ
ابھی خلد کا خدا را کوئی تذکرہ نہ چھیڑے
ابھی یاد آرہا ہے مجھے گلشنِ مدینہ
مری زندگی کا حاصل مرے واسطے یہی ہے
ترا نام لے کے مرنا ترا نام لے کے جینا
انہیں دونوں منزلوں کی میں حدوں میں کھو گیا ہوں
کبھی روبرو ہے کعبہ کبھی سامنے مدینہ
یہ بھنور یہ تیز دھارے مرا کچھ نہ کر سکیں گے
انہیں ناخدا بنا لوں ابھی پار ہے سفینہ
شہ دوسرا سے کہنا مری بیکسی کا عالم
کبھی اے صبا گزر ہو جو ترا سوئے مدینہ
وہ تجھے اگر بلالیں تو کرم ہے رازؔ ان کا
کہاں تیرے بھاگ ایسے کہاں تو کہاں مدینہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.