بقا ملی ہے رہِ طیبہ میں فنا ہو کر
بقا ملی ہے رہِ طیبہ میں فنا ہو کر
نکل گئی ہے مری جان مدعا ہو کر
تمہاری یاد میں آئی نہ اپنی یاد مجھے
کہ خود کو بھول گیا تم سے آشنا ہو کر
ہوائے شوق میں بن جاؤں خود ہی شوق ہے یہ
طوافِ روضۂ اقدس کروں صبا ہو کر
مثالِ شمع مہ و مہر جلتے ہیں دن رات
نبی کے سوزِ محبت سے آشنا ہو کر
اٹھائے کس لیے راغبؔ ترا جہان کے دکھ
پھنسے بلاؤں میں کیوں تیرا مبتلا ہو کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.