Font by Mehr Nastaliq Web

بقا ملی ہے رہِ طیبہ میں فنا ہو کر

راغب بدایونی

بقا ملی ہے رہِ طیبہ میں فنا ہو کر

راغب بدایونی

MORE BYراغب بدایونی

    بقا ملی ہے رہِ طیبہ میں فنا ہو کر

    نکل گئی ہے مری جان مدعا ہو کر

    تمہاری یاد میں آئی نہ اپنی یاد مجھے

    کہ خود کو بھول گیا تم سے آشنا ہو کر

    ہوائے شوق میں بن جاؤں خود ہی شوق ہے یہ

    طوافِ روضۂ اقدس کروں صبا ہو کر

    مثالِ شمع مہ و مہر جلتے ہیں دن رات

    نبی کے سوزِ محبت سے آشنا ہو کر

    اٹھائے کس لیے راغبؔ ترا جہان کے دکھ

    پھنسے بلاؤں میں کیوں تیرا مبتلا ہو کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے