Font by Mehr Nastaliq Web

حضور آپ آئے تو دل جگمگائے ورنہ لا چاروں کا کیا حال ہوتا

رمضان شکوری

حضور آپ آئے تو دل جگمگائے ورنہ لا چاروں کا کیا حال ہوتا

رمضان شکوری

MORE BYرمضان شکوری

    حضور آپ آئے تو دل جگمگائے ورنہ لا چاروں کا کیا حال ہوتا

    اسیروں کنیزوں پہ کیا کچھ گزرتی مصیبت کے ماروں کا کیا حال ہوتا

    آپ آئے ہیں تو یہ آئیں بہاریں ہر سمت صلی علیٰ کی پکاریں

    جو ماہ ربیع الاول نہ ہوتا تو پھر ان بہاروں کا کیا حال ہوتا

    سبھی انبیا ہیں سلامی کو آئے پیچھے کھڑے ہیں قطاریں بنائے

    ان سب میں اگر کملی والے نہ ہوتے تو لاکھوں ہزاروں کا کیا حال ہوتا

    ادب سے پکارے ملائک بھی سارے کہ تشریف لائے ہیں آقا ہمارے

    وہ معراج کی شب عرش پر نہ جاتے تو چاند اور ستاروں کا کیا حال ہوتا

    زمیں خوش فلک خوش حور و ملک خوش خالق بھی خوش ہے ساری خلق خوش

    ہوتی نہ گر خوش یہ ساری خدائی تو رنگیں نظاروں کا کیا حال ہوتا

    محشر میں ہم سب ہی گھبرا گئے تھے دوزخ کی آتش سے تھرا گئے تھے

    حضور آپ گر نہ ہمیں بخشواتے تو ہم گناہ گاروں کا کیا حال ہوتا

    ہم پہ شکوریؔ یہ ان کا کرم ہے، ان کے کرم سے سب کا بھرم ہے

    وہ غاروں میں رو رو دعائیں نہ کرتے تو ہم خطا کاروں کا کیا حال ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے