حضور آپ آئے تو دل جگمگائے ورنہ لا چاروں کا کیا حال ہوتا
حضور آپ آئے تو دل جگمگائے ورنہ لا چاروں کا کیا حال ہوتا
اسیروں کنیزوں پہ کیا کچھ گزرتی مصیبت کے ماروں کا کیا حال ہوتا
آپ آئے ہیں تو یہ آئیں بہاریں ہر سمت صلی علیٰ کی پکاریں
جو ماہ ربیع الاول نہ ہوتا تو پھر ان بہاروں کا کیا حال ہوتا
سبھی انبیا ہیں سلامی کو آئے پیچھے کھڑے ہیں قطاریں بنائے
ان سب میں اگر کملی والے نہ ہوتے تو لاکھوں ہزاروں کا کیا حال ہوتا
ادب سے پکارے ملائک بھی سارے کہ تشریف لائے ہیں آقا ہمارے
وہ معراج کی شب عرش پر نہ جاتے تو چاند اور ستاروں کا کیا حال ہوتا
زمیں خوش فلک خوش حور و ملک خوش خالق بھی خوش ہے ساری خلق خوش
ہوتی نہ گر خوش یہ ساری خدائی تو رنگیں نظاروں کا کیا حال ہوتا
محشر میں ہم سب ہی گھبرا گئے تھے دوزخ کی آتش سے تھرا گئے تھے
حضور آپ گر نہ ہمیں بخشواتے تو ہم گناہ گاروں کا کیا حال ہوتا
ہم پہ شکوریؔ یہ ان کا کرم ہے، ان کے کرم سے سب کا بھرم ہے
وہ غاروں میں رو رو دعائیں نہ کرتے تو ہم خطا کاروں کا کیا حال ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.