شب بھر چراغِ مدحت، آقا جلا رہے گا
شب بھر چراغِ مدحت، آقا جلا رہے گا
حرفِ ثنا کا پرچم لب پر کھلا رہے گا
طیبہ کی روشنی سے ہے روشنی ہماری
طیبہ کی ہر گلی سے بس رابطہ رہے گا
شہرِ قلم میں میرا ہر لفظ باوضو ہے
چھوٹے سے میرے گھر میں اب رتجگا رہے گا
ان کے درِ عطا سے کیا کچھ ملا نہیں ہے
کشکولِ آرزو کا دامن بھرا رہے گا
کوثر کے حوض پر جب سرکار آپ ہوں گے
سیراب ہوں گے سارے، میلہ لگا رہے گا
میں جانتا ہوں میرا خوش بخت یہ قلم بھی
طیبہ کی سر زمیں پر آنسو بنا رہے گا
اشکوں کو روکنے کا آتا نہیں سلیقہ
دامن مری دعا کا بھیگا ہوا رہے گا
مجھ کو خدائے کعبہ، دے گا شعورِ سجدہ
مرکز دل و نظر کا، درِ مصطفیٰ رہے گا
تازہ کتابِ مدحت لے جا صبا مدینے
ہر لفظِ لب کشا میں اب دل سجا رہے گا
ہر حرفِ التجا میں رکھنا ریاضؔ آنسو
ہر محفلِ ثنا میں چرچا ترا رہے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.