Font by Mehr Nastaliq Web

شب بھر چراغِ مدحت، آقا جلا رہے گا

ریاض حسین چودھری

شب بھر چراغِ مدحت، آقا جلا رہے گا

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    شب بھر چراغِ مدحت، آقا جلا رہے گا

    حرفِ ثنا کا پرچم لب پر کھلا رہے گا

    طیبہ کی روشنی سے ہے روشنی ہماری

    طیبہ کی ہر گلی سے بس رابطہ رہے گا

    شہرِ قلم میں میرا ہر لفظ باوضو ہے

    چھوٹے سے میرے گھر میں اب رتجگا رہے گا

    ان کے درِ عطا سے کیا کچھ ملا نہیں ہے

    کشکولِ آرزو کا دامن بھرا رہے گا

    کوثر کے حوض پر جب سرکار آپ ہوں گے

    سیراب ہوں گے سارے، میلہ لگا رہے گا

    میں جانتا ہوں میرا خوش بخت یہ قلم بھی

    طیبہ کی سر زمیں پر آنسو بنا رہے گا

    اشکوں کو روکنے کا آتا نہیں سلیقہ

    دامن مری دعا کا بھیگا ہوا رہے گا

    مجھ کو خدائے کعبہ، دے گا شعورِ سجدہ

    مرکز دل و نظر کا، درِ مصطفیٰ رہے گا

    تازہ کتابِ مدحت لے جا صبا مدینے

    ہر لفظِ لب کشا میں اب دل سجا رہے گا

    ہر حرفِ التجا میں رکھنا ریاضؔ آنسو

    ہر محفلِ ثنا میں چرچا ترا رہے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے