Font by Mehr Nastaliq Web

میں اک غریبِ شہرِ قلم ہوں، کرم کریں

ریاض حسین چودھری

میں اک غریبِ شہرِ قلم ہوں، کرم کریں

ریاض حسین چودھری

MORE BYریاض حسین چودھری

    میں اک غریبِ شہرِ قلم ہوں، کرم کریں

    اوراقِ غم پہ کب سے رقم ہوں، کرم کریں

    ہر شامِ اضطراب کی گنتا ہوں ساعتیں

    آقا، غبارِ ملکِ عدم ہوں، کرم کریں

    ہر وقت دست بستہ میں رہتا ہوں، یانبی

    میں طالبِ نگاہِ کرم ہوں، کرم کریں

    آنسو بنا ہوا ہے مرا حرفِ آرزو

    میں زندگی کی شامِ الم ہوں، کرم کریں

    گرد و غبارِ شب میں کہیں کھو گیا وجود

    ہر ہر قدم پہ نقشِ قدم ہوں، کرم کریں

    کیا کیا حکایتیں مرے بچوں کو یاد ہیں

    گذرے دنوں کا جاہ و حشم ہوں، کرم کریں

    اپنی ہی ذات کا میں دھواں ہوں سرِ قلم

    کب میں چراغِ راہِ حرم ہوں، کرم کریں

    آقا، ریاضؔ پیرہن ہے کاغذی فقط

    جھوٹی انا کا جھوٹا بھرم ہوں، کرم کریں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے