میں اک غریبِ شہرِ قلم ہوں، کرم کریں
میں اک غریبِ شہرِ قلم ہوں، کرم کریں
اوراقِ غم پہ کب سے رقم ہوں، کرم کریں
ہر شامِ اضطراب کی گنتا ہوں ساعتیں
آقا، غبارِ ملکِ عدم ہوں، کرم کریں
ہر وقت دست بستہ میں رہتا ہوں، یانبی
میں طالبِ نگاہِ کرم ہوں، کرم کریں
آنسو بنا ہوا ہے مرا حرفِ آرزو
میں زندگی کی شامِ الم ہوں، کرم کریں
گرد و غبارِ شب میں کہیں کھو گیا وجود
ہر ہر قدم پہ نقشِ قدم ہوں، کرم کریں
کیا کیا حکایتیں مرے بچوں کو یاد ہیں
گذرے دنوں کا جاہ و حشم ہوں، کرم کریں
اپنی ہی ذات کا میں دھواں ہوں سرِ قلم
کب میں چراغِ راہِ حرم ہوں، کرم کریں
آقا، ریاضؔ پیرہن ہے کاغذی فقط
جھوٹی انا کا جھوٹا بھرم ہوں، کرم کریں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.