غبارِ شہرِ اقدس میں اتر جاؤں گا میں آقا
غبارِ شہرِ اقدس میں اتر جاؤں گا میں آقا
مدینے کی فضاؤں میں بکھر جاؤں گا مَیں آقا
ہے جب صلِ علیٰ کا بادباں میرے سفینے پر
کسی بھی غم کے طوفاں میں اتر جاؤں گا میں آقا
نشانِ بے نوائی کو بٹھا لیں اپنی چوکھٹ پر
مدینے سے جدا ہو کر کدھر جاؤں گا مَیں آقا
تہی دامن ہوں لیکن خوشبوؤں کے ہاتھ پر آخر
دیا مدحت کا روشن ایک کر جاؤں گا مَیں آقا
کھلونوں کے لئے بچے مرے بھی منتظر ہوں گے
ہوئی ہے شام، خالی ہاتھ گھر جاؤں گا مَیں، آقا
صدا آئے گی مطلع نعت کا پھر سے ذرا کہنا
سرِ محشر، ثنا کرتے، جدھر جاؤں گا مَیں آقا
ریاضِ بے نوا کے ہاتھ پر رکھ دیں کوئی سورج
سرِ شب یاس کی ظلمت سے ڈر جاؤں گا مَیں آقا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.