ہوں اگر روح الامیں بھی پاسبانِ مصطفیٰ
ہوں اگر روح الامیں بھی پاسبانِ مصطفیٰ
رک نہیں سکتے کسی سے عاشقانِ مصطفیٰ
اب مرا دامن نہیں ہے دامنِ رحمت سے کم
آ پڑی ہے اس پہ خاکِ آستانِ مصطفیٰ
ہم دکھا دیں گے تمہیں کعبہ ادھر آتا ہوا
جس طرح سجدہ کریں گے عاشقانِ مصطفیٰ
عیدِ میلادالنبی کی بزم ہے آراستہ
آج ہونا چاہیے اظہارِ شانِ مصطفیٰ
کوئی سمجھا ہے نہ سمجھے گا کلامِ پاک کو
جس طرح سمجھے ہوئے ہیں عاشقانِ مصطفیٰ
بادۂ توحید کا اک جام مجھ کو بھی تو دے
اے شبِ معراج والے میزبانِ مصطفیٰ
آخر انساں ہے صباؔ تو یہ ملائک کہتے ہیں
ہو نہیں سکتا بیانِ عز و شانِ مصطفیٰ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.