Font by Mehr Nastaliq Web

ایثار کے خلوص کے پیکر تھے گل حسن

صبیح الدین رحمانی

ایثار کے خلوص کے پیکر تھے گل حسن

صبیح الدین رحمانی

MORE BYصبیح الدین رحمانی

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت گل حسن (پاکستان)

    ایثار کے خلوص کے پیکر تھے گل حسن

    خوشبوئے سادگی سے معطر تھے گل حسن

    مینار علم و فن تھے وہ اپنی صفات میں

    قامت میں روشنی کے برابر تھے گل حسن

    لہجے میں ان کے قوس و قزح کی گھلا وٹیں

    رنگوں کے امتزاج کا مظہر تھے گل حسن

    تہذیب و آگہی کے سبق اس زبان پر

    دل کی صداقتوں سے منور تھے گل حسن

    کس منہ سے یہ کہوں کہ وہ ہم میں نہیں صبیحؔ

    کیسے کہوں کہ ہم کو میسر تھے گل حسن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے