اس طرح جانِ دو عالم ہے دل و جان کے ساتھ
اس طرح جانِ دو عالم ہے دل و جان کے ساتھ
جیسے قرآن ہو خود صاحبِ قرآن کے ساتھ
دل میں یوں ہی رہے ارمانِ مدینہ یا رب
ورنہ یہ دم بھی نکل جائے گا ارمان کے ساتھ
یادِ والا نے تہہ قبر بڑا ساتھ دیا
ورنہ کچھ بھی نہ تھا مجھ بے سرو سامان کے ساتھ
روحِ اسلام کا مفہوم ادا ہو جائے
ملے اخلاق سے انسان جو انسان کے ساتھ
موت سے پہلے زبان پر کوئی نام آتا ہے
خاتمہ ہوتا ہے مؤمن کا بڑی شان کے ساتھ
یوں تو کونین کی ہر شے میں ہیں اس کے جلوے
مگر ایمان کی شمعیں ہیں مسلمان کے ساتھ
ہاتھ سے دولتِ کونین کو کیسے چھو لوں
ربط ہاتھوں کو ہے اس گوشۂ دامان کے ساتھ
دونوں عالم میں نہ ہو کیوں مری توقیر صبیحؔ
خاص نسبت ہے مجھے حضرتِ حسان کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.