ارضِ طیبہ عجیب بستی ہے
ارضِ طیبہ عجیب بستی ہے
جس کو ہر اک نظر ترستی ہے
بالیقیں زائرِ حرم کے لیے
ہر قدم جذب کیف و مستی ہے
آپ کی ذاتِ پاک ہے سب کچھ
مری ہستی بھی کوئی ہستی ہے
دل کی دنیا کو کیا کہیں آخر
رحمتِ عرش خود برستی ہے
سرِ بازار جنسِ عشق حضور
جتنی مہنگی ہے اتنی سستی ہے
یا نبی آپ ہی بلا لیجیے
پاؤں زنجیرِ یاس کستی ہے
پئے نعت نبی مئے انوار
میرے افکار پر برستی ہے
بے جمال درِ حضور صبیحؔ
زندگی موت کو ترستی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.